27 جولائی 2016 - 08:55
ایران کی سایبر اٹیک کرنے کی صلاحیت واشنگٹن ریاض اور تل ابیب کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہے

ایک امریکی فکری مرکز نے لکھا ہے ؛ ایران کی سایبر اٹیک کرنے کی صلاحیت اس میدان کے دنیا کے پانچویں بڑے ملک کے طور پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے پریشانی کا باعث ہے ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکی فکری مرکز انٹرپرائز نے ایک رپورٹ میں جو ایران کی سایبری صلاحیت کے بارے میں ہے لکھا ہے : اکثر تجزیہ نگار ایران کی بڑھتی  ہوئی سایبری صلاحیت سے بہت متائثر ہوئے ہیں ۔ایران نے بے شک سایبری حملوں سے اپنا بچاو کرنے کے لیے اس میدان میں خصوصی سرمایہ گذاری کی ہے اور اس کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ وہ اپنے داخلی امور پر بہتر طریقے سے نظر رکھ سکے۔

اس رپورٹ کی بنیاد پر ترقی کے چھٹے منصوبے کا پانچ سالہ پروگرام کہ جس کو ایران کے رہبر آیۃ اللہ خامنہ ای نے پیش کیا ہے اس کو جلدی ہی پارلیمنٹ میں پاس کر لیا جائے گا ۔ ایران کے سایبری پروگرام کا بجٹ سالانہ ۷۶ ملین ڈالر ہے اور ایک ملیارڈ ڈالر تقریبا بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر خرچ کیا جائے گا۔

مذکورہ فکری مرکز نے آگے لکھا ہے : ایران کے سایبری حملے کی صلاحیت نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو پریشان کر رکھا ہے ۔ اس میدان میں ایران نے صرف کچھ ہی سالوں میں جانکار افراد کی تربیت کی ہے اور وہ دنیا کی سایبری بڑی طاقتوں یعنی امریکہ ،روس ،چین اور اسرائیل کے  ٹھیک پیچھے کھڑا ہے ۔ ایران میں یہ کام سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ذمے ہے اور اس کے پاس سینکڑوں نہیں لیکن دسیوں ہیکر یقینا موجود ہیں ۔

امریکن انٹرپرائز نے آگے سایبر کے میدان میں ایران کی سرمایہ گذاری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے : ایران نے باہر کے ملکوں میں اپنے عقیدتی  پروگراموں کو پھیلانے کی خاطر اس راہ پر قدم رکھا  ہے ۔ اسی طرح ایران کچھ ایسی تنظیمیں بھی بنا رہا ہے کہ جو ضرورت پڑنے پر اس ملک کے رقیبوں پر حملے کر سکتی ہیں ۔یہ ملک سخت ترین حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ ایران کی یہ بھی کوشش ہے کہ اگر دشمن ان پر سایبری حملے کرتا ہے یا اس کے مفادات پر حملہ کرتا ہے تو وہ دشمن کے اندر خوف و ہراس کی حالت پیدا کر سکتا ہے ۔

اس رپورٹ کے آخر میں ایران سے تعلق رکھنے والی  باہر کے ملکوں میں ہیکروں کی شاخوں جیسے حزب اللہ ، یمن اور شام کی   سایبری فوج  کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے : ترقی اور پیشرفت کی صورت میں ایران مستقبل میں اس میدان میں ،امریکہ ،اسرائیل یا سعودی عرب کا مقابلہ کرنے کی طاقت پیدا کر لے گا ،اور یہ ملک سنتی ہتھیاروں سے استفادہ کیے بغیر اپنے دشمنوں پر حملے کی ان کو دھمکی دے سکے گا ۔ لہذا دوسروں کے مقابلے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایران کی سایبری کاروائیوں سے زیادہ پریشان ہونا چاہیے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲